Sun. Jun 16th, 2019

The light of a misunderstanding Is it necessary to heat the engine before driving

ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گاڑی چلانے سے پہلے انجن گرم کرنا ضروری ہے






کچھ  لوگ صبح سویرے گاڑی میں دفتر کے لئے روانہ ہونے سے تھوڑی دیر پہلے گاڑی کو اسٹارٹ کرکے چھوڑ دیتے ہیں سردیوں کے موسم میں تو اس چیز کا اور بھی زیادہ خیال رکھا جاتا ہے لیکن ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے اگر آپ نہیں جانتے تو کوئی بات نہیں میں آپ کو بتائیں دیتا ہوں یہ دراصل پرانے زمانے سے چلا آ رہا ہے کہ گاڑی چلانے سے پہلے اس کا انجن گرم ہونا چاہیے تاکہ سفر میں کوئی مشکلات پیش نہ آئیں یہ خیال صرف اس وقت تک درست تھا کہ جب کار بی  کار عام تھی یہ وہ گاڑیاں تھیں کہ جن میں باپ سے بننے والے ایندھن کو ہوا سے ملانے کے لیے کاربوریٹر لگایا جاتا ہے اگر کاربوریٹر کا درجہ حرارت کم ہو تو وہ ایندھن اور ہوا کے امتزاج میں کمی بیشی کر دیتا ہے جس کا انجن پر منفی اس اثرپڑتا ہے ہے یہی وجہ ہے کہ کاربی کارز کو چلانے سے پہلے کاربوریٹر کو گرم کیا جانا ضروری سمجھا جاتا تھا



البتہ اسکا پسٹن کے سرد ہونے یا انجن آئل سے کوئی تعلق نہیں ہے موجودہ دور کی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی انجن کو ایندھن کی فراہمی کا طریقہ کار قدرے مختلف ہوتا ہے اس میں  تھ روٹل موجود ہے جو صرف ہوا کو کھینچتا ہے اور ایندھن کو اس سے بالکل الگ رکھتا ہے ان گاڑیوں میں انجیکٹرز لگائے جاتے ہیں جو گاڑی چلائے جانے سے پہلے ہی سلنڈر کو براہ راست ایندھن فراہم کرتے ہیں ان میں   سائنسیرز بھی شامل جو ہوا ہوا اور ایندھن کے تناسب کو کنٹرول رکھتے ہیں گاڑی کا انجن کنٹرول یونٹ ایسی یو سلینڈر کو فراہم ہونے والے ایندھن کی مقدار کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ایگزاسٹ سے نکلنے والی گیس کی بھی جانچ پڑتال کرتا رہتا ہے اس سے نہ صرف ان کی بھی بچت ہوتی ہے لہذا آپ کو سفر سے پہلے گاڑی اسٹارٹ کر کے چھوڑ دینے کی ضروری نہیں ہے یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بہت سے گاڑی کا انجن سٹارٹ کرنے اور پھر اسے چلانے کے درمیان 30 سیکنڈ کے وقفے کا مشورہ بھی دیتے ہیں لیکن یہ کوئی اتنا زیادہ وقت نہیں کہ جسے عام ڈرائیور محسوس کر سکے آپ گاڑی اسٹارٹ کر کے پہلے یعنی گیر پر جائیں اور آہستہ سے گاڑی چلانے کی عادت بنا لیں تو اس پر عمل اور بھی آسان ہے گاڑی کو اسٹارٹ کرکے چھوڑ دینا یا پھر انجن پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے سے نہ صرف ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے بلکہ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ہم گاڑیوں کے دھوئیں سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کو زیادہ اہم خیال نہیں کرتے لیکن حقیقت یہی ہے اور ان پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے تو گاڑی سے خارج ہونے والے کاربن ڈائی اکسائیڈ پر قابوپایا جاسکتا ہے میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو آج کا آرٹیکل پسند آیا ہو گا تو پلیز اس کو لائیک اینڈ شیئر ضرور کرنا اللہ حافظ



Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *