ٹویٹا گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے اپنا پلانٹ بند کر دیا ہے             

                 

                                                                                                                                                                                                                          

ٹویٹا گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے اپنا پلانٹ بند کر دیا ہے
ٹویٹا کی گاڑیاں بنانے والی انڈس موٹر کمپنی آئی ایم سی نے مانگ میں کمی کی وجہ سے ستمبر کے بقیہ دنوں میں اپنی پیداوار کو بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نان پروڈکشن ڈیز این پی ڈیز یا غیر پیداواری ایام کو پندرہ کردیا
انڈس موٹر کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پے بتایا کہ کمپنی کو پہلے ہی جولائی کے مہینے میں آٹھ این پی ڈیز اور اگست کے مہینے میں 10.48 این پی ڈیز کا سامنا رہا ہے
انہوں نے کہا کہ متعدد انجن کی صلاحیت والی گاڑیوں پر لگنے والی ٹو پرسینٹ فائی سے سیون پرسنٹ فائیو تک کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایف آئی ڈی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی جب کے درآمدشدہ پارٹس اور خام مال پر اضافی کسٹمزڈیوٹی اور شرح سود میں اضافے سے ان کی گاڑیوں کی قیمت مارکیٹ سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے حکام کا کہنا تھا کہ ستمبر کا آدھا سے زائد مہینہ چھٹی کا ہوگا ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم سی پلاٹ اور ملک بھر میں اس کے ڈیلر شپ کے نیٹ ورک میں تین ہزار سے زائد غیر فروخت شدہ گاڑیاں جمع ہوگئی ہیں ستمبر میں یہ پلاک اپنی 50 فیصد کام کر رہا تھا
دریں اثناء ٹویٹا نے بھی تصدیق کی کہ آئی ایم سی کی پیداوار 20 ستمبر سے 30 ستمبر تک بند رہے گی ٹویٹا کرولا جولائی اور اگست کے درمیان بن ترکیب 5308 اور 3768 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال انہیں مہینوں میں آٹھ ہزار 804 اور 8787 یونٹس فروخت ہوئے تھے جیس سے اس فروخت میں 40 اور 57 فیصد کمی زہر ہوتی ہے ۔۔ٹویوٹا ہائی لیکس جولائی اور اگست کے درمیان بالترتیب 973 اور 716 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال انہیں مہینوں میں یہ 1383 اور 1292 یونٹس فروخت ہوئی تھیں جو 42 اور 44 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے ٹویٹا فارچونر کی فروخت بھی ان مہینوں میں کم ہو کر بند کرتی 232 یونٹس اور 162 یونس ہوگی گزشتہ سال انہیں میں ہی نومی 484 اور 424 فیصد بھی جو کہ 52اور 62 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے