پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کو خریدنے کے اہم پوائنٹ how to buy used cars in pakistan

السلام و علیکم میں ہوں زوار عوان اور آج میں آپ کے لیے ایک بہت ہی اہم ٹاپک لے کر حاضر ہوا ہوں جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں پاکستان میں نئی گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ہر بندہ نیو گاڑی نہیں خرید سکتا تو وہ پھر کوشش کرتا ہے کہ میں استعمال شدہ گاڑی خریدیں لیکن گاڑی خریدنا استعمال شدہ گاڑی خریدنا بھی پاکستان کی مارکیٹ میں بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے کسٹمرز کے لیے لیکن میں ان شاء اللہ کوشش کرتا ہوں کہ میں آپ کو کچھ ایسی باتیں بتاؤ جس کو فالو کرتے ہوئے آپ ایک اچھی استعمال شدہ گاڑی خرید سکتے ہیں ویسے تو دوستو میرے یوٹیوب چینل میں اردو ٹیوب پر بہت سی ویڈیوز میں نے اپ لوڈ کی ہے جن میں میں نے یہ بتایا ہے کہ استعمال شدہ گاڑی کو کیسے چیک کرتے ہیں گاڑی کی سیلز کو کیسے چیک کرتے ہیں گاڑی ایکسیڈنٹ ہے یا نہیں ہے گاڑی میری پینٹ کیا گیا ہے یعنی کیا گیا تو آپ میرے یوٹیوب چینل کو وزٹ کر سکتے ہیں اسکیلنگ آپ کو اس میری ویب سائٹ کے ہوم پیج پر مل جائے گی دوستو سب سے پہلے آپ اپنے بجٹ کے مطابق جب گاڑی خریدنے مارکیٹ میں نکلتے ہیں تو آپ کے ساتھ اکثر دھوکا ہو جاتا ہے تو پہلی بات ہے کہ آپ لوگ کوشش کریں کہ جس بھی کمپنی کا جو بھی ماڈل آپ خریدنے جا رہے ہیں کیا اسکے سپیئرپارٹس پاکستان میں آسانی سے مل جاتے ہیں کیا یہ گاڑی کل کو اگر ہم سیل کریں یہ ہمیں نقصان تو زیادہ نہیں دے گی مطلب کے گاڑی کی سیل ویلیو کیسی ہے اس کے بعد آپ نے ایک چیز کو مدنظر رکھنا ہے کہ یہ گاڑی ہمیں ایندھن کی کھپت زیادہ تو نہیں دے گی اپنی فیملی کو مدنظر رکھتے گاڑی خریدنی ہے میں مثال دیتا ہوں اگر آپکی فیملی میں سات لوگ ہیں اورآپس آپ لوگوں کے ساتھ کہیں جاتے جاتے ہیں یا کہیں بھی آپ سیروتفریح کے لیے جاتے ہیں تو آپ کوشش کریں ایسی گاڑی تلاش کریں جس کے اندر سات لوگ آسانی سے سفر کر سکیں اور گاڑی کا بوٹ سپیس بھی اچھا ہو تاکہ آپ اپنی سامان وغیرہ آسانی سے اس گاڑی میں رکھ سکیں دوستوں کوشش کریں کہ جب بھی آپ لوگ گاڑی  لینے نکلا کریں اور آپکو تجربہ کم ہے تو آپ اپنے کسی جاننے والے ایسے بندے کی ہیلپ لیں جو گاڑیوں کے بارے میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور اعتماد والا بندہ ہوں جو آپ کو ایک اچھا مشورہ دے اب اپنے کوشش کرنی ہے کہ اپنے آس پاس میں کسی کےپاس ایسی گاڑی کی تلاش کریں جو کہ آپ کو درکار ہو کیونکہ شوروم سے گاڑی خریدنا آپ کے لئے مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے اگر میں بات کرو پاکستان میں گاڑیوں کی مارکیٹ کی تو مارکیٹ میں 80 فیصد لوگ اپنے کسٹمر کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں اور ایک ایکسیڈنٹ اور ریپ پینٹ گاڑی کو اوریجنل گاڑی بتا کر کسٹمر پر فروخت کر دیتے ہیں اور بعد میں جب آپ گاڑی گھر لے جاتے ہیں کسی سمجھدار بندے کو گاڑی چیک کراتے ہیں یا پھر کچھ عرصہ آپ گاڑی کو استعمال کرتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ گاڑی جو ہے یہ ایکسیڈنٹل بھی ہے اور اسکو بعد میں پینٹ بھی کیا گیا ہے تو آپ کے پیسے بھی ضائع ہو جائیں گے اور وقت بھی ضائع ہو جائے گا اگر آپ کو اس پاس یا کسی بھی گھر میں کھڑی ہوئی گاڑی نہیں مل رہی تو آپ کسی اچھے ایماندار اعتماد والے شروم پر جائیں اور وہاں سے آپ گاڑی خرید سکتے ہیں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اپنے گاڑی کو چیک کیسے کرنا ہے سب سے پہلے آپ نے گاڑی کے چار دروازوں کو کھول لینا ہے اور گاڑی کے دروازوں کے اندر ایک سیلز ہوتی ہیں اگر وہ سیل ٹوٹی ہوئی ہیں تو اپنے سمجھ جانا ہے اس گاڑی نے کوئی بڑا ایکسیڈنٹ کیا ہے دوستوں گاڑی کی سیلز اس وقت ٹوٹتی ہیں جب وہ کسی چیز میں جاکے ہٹ کرتی ہے یا کوئی چیز زوردار طریقے سے آکر گاڑی میں لگتی ہے پھر ان سیل ڈینٹرپینٹر ریپیر کرتے ہیں جو کہ سیل بتا رہی ہوتی ہیں کہ یہ کمپنی فٹ نہیں ہے اگر گاڑی کی سیل ٹوٹی ہوئی نہیں ہے اور باہر سے ری پینٹ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ گاڑی میں کوئی سکرٹ جاگے تھے یا پھر دھوپ میں کھڑے ہونے کی وجہ سے گاڑی کا جو کلر تھا وہ اڑ رہا تھا تو اس کو دوبارہ ریپ پینٹ کرایا گیا اب اپنے گاڑی کا اندر کا حصہ کیسے چیک کرنا ہے سب سے پہلے گاڑی کے ڈیش بورڈ کو اپنے دیکھنا ہے  پلاسٹک کا کلر کیسا ہے بیل سٹیرنگ کے اوپر لگنے تو نہیں ہیں گاڑی کے روف کی پوشی یعنی کے چھت کا کپڑا اپنے دیکھنا ہے وہ زیادہ میلا کچیلا تو نہیں ہے گاڑی کے میٹر کو دیکھنا ہے کہ اسکے میٹرریڈنگ میں بی معنی تو نہیں کی گئی مثال کے طور پر اگر گاڑی میں لیج شو کر رہی ہے ایک لاکھ اور وہ گاڑی چلی ہوئی ہو ڈیڑھ لاکھ تو آپکو گاڑی بتا رہی ہوگی گاڑی کا ایکسٹیریئر گاڑی کا انٹیریر گاڑی جب آپ برائے کریں گے تو اس کے انجن کی آواز یعنی کے گاڑی کی ایک ایک چیز آپ کو بتا رہی ہوگی کہ میں ڈیڑھ لاکھ کلومیٹر استعمال ہو چکی ہو لیکن یہ جو ایک لاکھ میٹر ریڈنگ ہے یہ غلط ہے اس کے بعد آپ نے گاڑی کا نچلا حصہ چیک کرنا ہے جس کو ہم فرش کہتے ہیں تو آپ کوشش کریں کسی ایسی جگہ پر گاڑی کو کھڑا کریں جہاں پر آپ کو گاڑی کا سارا نچلا حصہ آسانی سے نظر آئے اور اپنے دیکھنا ہے کہ فرشتوں ہے اس کے اندر کوئی رنگ تو نہیں ہے یہ فرش کا گلہ سڑا ہوا تو نہیں ہے اگر گاڑی کا فرش خراب ہو تو وہ آپ کو بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب آپ کسی پانی والی جگہ سے گزریں گے تو سارا پانی آپ کی گاڑی کے اندر آجائے گا یا پھر آپ کسی کچے راستے پے یا دھول مٹی والی سڑک پر سفر کریں گے تو دھول مٹی آپ کی گاڑی کے اندر آئے گی جس سے آپ کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوجائے گا اس کے بعد میں آپ کو بتاؤں کہ اپنے گاڑی کے ری پینٹ کو کیسے چیک کرنا ہے کہ گاڑی کا جوائنٹ ہے یحارج نال ہے یا اس کو دوبارہ ریپ پینٹ کیا گیا ہے گاڑی کو دھوپ میں لے جائیں گاڑی کے ایک طرف آپ لوگ کھڑے ہو کر پوری گاڑی کی سائیڈ کو اپنے بہت ہی غور سے دیکھنا ہے گاڑی کا فائنڈر دونوں دروازے اگلا اور پچھلا بمپر ان سب کا کلر آپس میں میچ کررہا ہے یا نہیں کر رہا اگر اور اگر کلرز آپس میں میچ نہ کر رہا ہو تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ گاڑی کے باہر کے حصّوں کو مختلف ٹائم و میں دوبارہ پینٹ کیا گیا ہے یا پھر آپ اپنی انگلی کی مدد سے گاڑی کے اوپر اپنی انگلی کا ناخن والا حصہ مارے اگر آواز بھاری آ رہی ہو تو سمجھ لینا گاڑی کے اس حصہ میں پوٹین لگائی گئی ہے اور یہ حصہ دوبارہ پینٹ کیا گیا ہے اور جہاں پر آواز پتلی سنائی دے تو وہ حصہ گاڑی کا اصل پینٹ ہے اب ہم بات کرلیتے ہیں گاڑی کے کاغذات کو کیسے چیک کرنا ہے دوستوں گاڑی لیتے وقت آپ نے یہ طے کر لینا ہے کہ جو گاڑی کی اونرشپ ہے وہ کتنے بندوں کے نام رہی میں مثال دیتا ہوں اگر گاڑی تین بندوں کے نام رجسٹرڈ رہی تو تینوں بندوں کی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کا ہونا لازمی ہے اگر کسی ایک فریق کے بھی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی نہیں ہے تو وہ گاڑی آپ نہ خریدیں یا پھر گاڑی کے اونر سے کہیں کہ پہلے ہمیں یہ جو گاڑی کے آئی ڈی کارڈ کی فوٹو کاپی ہے یہ ہمیں پہلے دے تو آپ گاڑی خریدنے اگر گاڑی کانمبر اسلام آباد سیٹی کا ہے تو اس میں ریٹرن فائل نہیں ہوگی کیونکہ اسلام آباد سٹی کی رجسٹرڈ گاڑیوں میں ریٹرن فائل نہیں ہوتی اسلام آباد سے ہٹ کر اگر کسی اور سٹی سے گاڑی کی رجسٹریشن ہوئی ہے تو ریٹرن فیل کا ہونا لازمی ہے ورنہ گاڑی نہ خریدیں اپنے گاڑی کے کاغذات کو چیک کرتے وقت یہ بھی دھیان دینا ہے کے گاڑی کے جو کاغذات ہیں یہ اصل ہے یا فوٹو کاپی تو نہیں کیے گئے تو اپنے یہ دھیان دینا ہے کہ جو سائین ہوتے ہیں اکسائز والوں کے ان سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ سائن اس کاغذ کے اوپر کئے گئے ہیں یا اس سائن ہونے کے بعد اس کاغذ کو دوبارہ فوٹو کاپی کرایا گیا ہے تو آپکو اندازہ کیا کہ یہ اس گاڑی کے اصل کاغذات ہے یا کے انکو فوٹو کاپی کیا گیا ہے اور شروم والے سے گاڑی جب بھی آپ خریدی اس کے پیڈ پر اپنے ایک تحریر لکھ والی نئی ہے گاڑی کہ یہ گاڑی اتنے پیسوں کے عوض میں نے اس سے خریدی ہے تمام کاغذات اصل ہیں اور شروم والا اس کا ذمہ دار ہوگا اگر گاڑی کے کاغذات غلط ہوئے یا ان میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تو دوستوں دو گواہوں کے دستخط کروا لینا  شو روم کے مالک کی شوروم سٹیمپ

اس رسید کے اوپر لازمی لگوانا اور گاڑی کو ون فائیو لازمی کروالینا کہ یہ گاڑی کسی ایف آئی آر میں مطلوب تو نہیں ہے تو دوستو یہ کچھ بنیادی چیزیں تھیں جو میں نے آپ کے ساتھ شیئر کرنا لازمی سمجھا اگر آپکو پسند آیا آج کا آرٹیکل تو اس کو  اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کرنا اور کمنٹس باکس میں اپنی رائے کا اظہار لازمی کرنا اب آپ کا ہوسٹ زوار عوان آپ سے اجازت چاہتا ہے اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر رہے اللہ حافظ

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *