حکومت پاکستان کی جانب سے سوزوکی کمپنی کو رعایت دینے پر نئے اداروں کا اظہار ناراضگی

رواں ہفتے وزارت صنعت و پیداوار کے ایک اجلاس میں نئے آٹو میکرز کے نمائندوں نے حکومت کی جانب سے پاک سوزوکی کو گرین فیلڈ اسٹیٹس دینے کے ارادے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ایک مقامی میڈیا ادارے نے بتایا کہ پاک سوزوکی کو اس طرح کی ریتی دینا ملک میں ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو برباد کردے گا اور مطالبہ کیا کہ سوزوکی یا کسی بھی موجودہ مقامی ادارے کو کوئی رعایت نہیں دینی چاہیے واضح رہے کہ آنے والے آٹو ادارے مقامی صنعت میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے تاکہ ملک میں گاڑیاں بنائے اور ساتھ ہی ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں چکے ہیں جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ غیرملکی آٹومیکر پہلے ہی پاکستان میں آچکے ہیں جن میں کیا رینو رینالٹ اور چینی آٹومیٹک جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں مزید فوکس ویگن کرچکی ہے پاک سوزوکی 21 2016 ای ڈی بی پی کی گرین فیلڈ انویسمنٹ کیٹیگری کے تحت ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے موجودہ حکومت مبینہ طور پر جاپانی حکومت کے دباؤ میں آکر آٹو میں کر کو یہ رعایت دے رہی ہے مزید جیسا کہ مقامی میڈیا نے بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت و سرمایہ کار عبدالرزاق داؤد سوزوکی کو گرین فیلڈ اسٹیٹس دینے کے لیے وزیر اعظم کو قائل  کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں البتہ یہ بھی اس کے مدنظر ہے کہ پاک سوزوکی کورعایت دینا صنت میں آنے والے نئے ادارے کی حوصلہ شکنی کرے گا پاک سوزوکی نے 460 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نئے پلانٹ کی تنصیب کا اعلان کررکھا ہے تاکہ وہ ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کر سکے یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے حکومت سے رابطہ کیا البتہ موجودہ 21 2016 اے ڈی بی پی کے مطابق کوئی بھی موجودہ آٹو کمپنی گرین فیلڈ اسٹیٹس سے نوازیں جائے گی اور اس کے فوائد صرف صنعت میں نئے داخل ہونے والے اداروں کے لیے ہوں گے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کمپنی نے کوئی رعایت حاصل کرنے کے لئے حکومت پاکستان سے رابطہ کیا گذشتہ حکومتوں سے بھی یہ رابطہ کیا گیا تھا لیکن تار ٹی کمپنی کی درخواست مسترد کردی گئی تھی کیونکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا ھوتی

گرین فیلڈ کے فوائد کیا ہوتے ہیں اس پر بھی ہم ذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں

گرین فیلڈ انویسٹمنٹ سے مراد پاکستان میں کسی سرمایہ کار کی جانب سے ایسی گاڑیوں کی پیداوار کے لئے نئے اور آزاد آٹوموٹو اسمبلی اور مینوفیکچرنگ کے تنصیبات قائم کرنا ہے جو پہلے سے پاکستان میں اسمبلی کی جا رہی ہوں منصوبے کے سنگ بنیاد کے بعد تجرباتی مارکیٹنگ کے لئے 5 فیصد ڈیوٹی پر سو گاڑیوں کے ایک ہی وئرئنٹی سی بی یو صورت میں درآمد کی اجازت اس کے بعد گاڑیوں اور ایل سی بی ایس کی تیاری کے لیے پانچ سال تک غیر مقامی پرزوں کے لئے 10 فیصد اور مقامی پرزوں کے لئے پچیس فیصد  کسٹمز ڈیوٹی کی رعایتی نرخ اس کے بعد جو فائدہ ہوتا ہے وہ ہے تین سال کے لئے ٹرکوں بسوں اور بار برادری کی بڑی گاڑیوں کی تیاری کے لئے تمام پرزوں مقامی اور غیر مقامی دونوں کی غیر مقامی پرزوں کے لیے رائج کسٹمز ڈیوٹی پر درآمد حکومت کی جانب سے منظور شدہ اور ایف بی آر کے 2013 1 939 ایس آر او اور ایک 940 ایس آر او میں کیے گئے اعلان کے مطابق موٹرسائیکل یہ موجودہ پالیسی جاری رہے گی کیا موجودہ مینوفیکچرز کو نئے پلانٹ کے لئے گرین فیلڈ اسٹیٹس دینا چاہیے آپ بھی اپنا تبصرہ نہ کمنٹس باکس میں کرسکتے ہیں اللہ حافظ

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *